چھبیس سال کا اک سفر، پسینے سے سینچا تھا
Pop
00:00 / 00:00
Lyrics
چھبیس سال کا اک سفر، پسینے سے سینچا تھا
جسے گلشن بنانا تھا، اسے اپنوں نے ہی نوچا تھا
جنہیں تخت پر بٹھایا، وہ بغل میں چھپائے خنجر تھے
تمہاری سادہ دلی کے قصے، ان کے لیے محض منظر تھے
وہ جو ساتھ کھڑے تھے سائے بن کر، وہ سائے نہیں زہر تھے
تمہارے چوبیس سالہ خوابوں پر، وہ ٹوٹا ہوا قہر تھے
وہ آستین کے پالے ہوئے، آج فخر سے لہراتے ہیں
تمہاری محنت کی راکھ پر، اب اپنی محل بناتے ہیں
(بند 2: جیل کی تنہائی اور جسمانی اذیت)
وہ اندھیری کوٹھری کا حبس، اور گرتی ہوئی دیواریں
جہاں دشمن کی سازشیں ہیں، اور اپنوں کی پکاریں
ایک آنکھ کی روشنی کھو دی، پر بصیرت اب بھی زندہ ہے
تمہیں مارنے والے سانپوں کا، ہر وار اب بھی شرمندہ ہے
وہ زہر پلانے کی کوشش، وہ پل پل کی اذیت ہے
مگر قیدی کی ہمت دیکھو، وہ اب بھی ایک حقیقت ہے
وہ جسے تم مٹانا چاہتے ہو، وہ مٹی کا بیٹا ہے
تم جتنا زہر اگلتے ہو، وہ اتنا ہی نکھرتا ہے
(بند 3: سمندر پار پاکستانی اور منافق قیادت)
وہ جو سات سمندر پار بیٹھے، بڑے عہدوں پر فائز ہیں
وہ خان کے نام پہ پلتے ہیں، پر ضمیر ان کے ناجائز ہیں
وہاں ٹھنڈے ہالوں میں بیٹھ کر، وہ لگژری ڈنر کرتے ہیں
خان کی آزادی کے نام پر، وہ اپنی جیبیں بھرتے ہیں
وہ تصویریں کھنچواتے ہیں، وہ نعرے بھی لگاتے ہیں
مگر جب قربانی کا وقت آئے، تو وہ رستے بدل جاتے ہیں
تمہاری یہ رنگین محفلیں، اس کے لہو کا تماشہ ہیں
تم بھی ان سانپوں جیسے ہو، جو صرف خود غرضی کا اثاثہ ہیں
(بند 4: قوم کے لیے آخری تنبیہ)
سب سے بڑا سانپ تو وہ قوم ہے، جو سب دیکھ کر چپ ہے
جس کے سامنے اس کا لیڈر، سسک سسک کر مٹ رہا ہے
تم دیکھتے ہو اس کا تڑپنا، اور خاموش تماشائی ہو
تم سمجھتے ہو وہ مر رہا ہے؟ تم اپنی موت کے سودائی ہو
یہ اس کا انجام نہیں ہے، یہ تمہارے کل کا جنازہ ہے
وہ تو تاریخ میں امر ہوا، تمہارا زخم ابھی تازہ ہے
جس دن وہ چراغ بجھ گیا، جو تمہارے لیے جلتا تھا
تم ڈھونڈو گے اس مٹی کو، جہاں وہ شیر چلتا تھا
(مقطع)
وقت کا پہیہ گھومے گا، اور حساب برابر ہوگا
وہ سرخرو ہو جائے گا، اور تمہارا گھر بنجر ہوگا
یہ خان کا انت نہیں، یہ تمہاری بربادی کا آغاز ہے